اقوال زریں

  انسان کی سمجھداری یہ ہے کہ وہ کفایت شعار ہو۔ 
 خدا کے نزدیک بہترین دوست وہ ہے جواپنے دوست کا خیر خواہ ہو۔

  جب تجھے نیکی کر کے خوشی ہو اور برائی کر کے پچھتاوا ہو تو تو مومن ہے۔

  کسی برائی کو معمولی سمجھ کر اختیار نہ کرو۔ ممکن ہے اس سے خدا روٹھ جائے۔

  گلے اور شکوے سے زبان بند رکھو، راحت نصیب ہو گی۔

  پرہیز کرو، پرہیز نفع دیتا ہے عمل کرو، عمل قبول کیا جاتا ہے۔

  علم پیغمبروں کی میراث ہے اور مال کفار، فرعونو قارون وغیرہ کی۔

   جو اللہ تعالیٰ کے کاموں میں لگ جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے کاموں میں لگ جاتا ہے۔

 مومن کو اتنا علم کافی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ 
  کم کھانا صحت، کم بولنا حکمت، اور کم سونا عبادت میں شامل ہے۔
 علم ایک ایسا پودا ہے جسے دل و دماغ کی سرزمین میں لگانے سے عقل کے پھل  اگتے ہیں۔

  عالم کا آرام کرنا جاہل کی عبادت سے بہتر ہے۔

 اے مسلمانو! تمہارے لیےرسولِ خدا کی ذاتِ گرامیایک عمدہ نمونہ ہے۔

 اپنے رب سے گڑگڑا کر چپکے چپکے دعا کرتے رہو۔

  جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے اس کا زمہ دار وہ خود ہے۔

 

1 Comment »

  1. 1
    tasawer ahmad Says:

    very very nice


RSS Feed for this entry

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.