لطیفے

       ذہانت

لڑکا (امی سے): کیا مجھے کوئی ایسا کام کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں مجھے مارا پیٹا جائے؟؟؟امی: تمہیں ہر گز ہر گز ایسا کام نہیں کرنا چاہیے۔بیٹا: تو میں آج سے سکول نہیں جاؤں گا۔ وہاں مجھے ہر روز مار پڑنی ہے۔۔۔

اسٹیٹس

دو دوست آپس میں باتیں کر رہے تھے۔پہلا دوست: ہم بہت امیر لوگ ہیں۔دوسرا دوست: یہ تو بہت اچھی بات ہے۔پہلا دوست: ہمارے نیچے ڈیڑھ سو آدمی کام کرتے ہیں۔دوسرا دوست: واقعی! وہ کیسے؟پہلا دوست: نیچے ہمارے فیکٹری ہے اوپر ہم کرایے دار ہیں۔

فقیر

بچہ: امی ایک روپیہ دیجیے فقیر کو دینا ہے۔امی: بیٹا فقیر کہاں ہے؟؟بچہ: امی وہ گلی کے کونے پر کھڑا آئس کریم بیچ رہا ہے۔۔

نیکی کر دریا میں ڈال

جج (ملزم سے): تم نے اپنے دوست رشید کو نوکری دلوانے کے بعد دریا میں کیوں دھکیلا؟

ملزم: صاحب جی، میری ماں ہمیشہ کہتی ہے نیکی کر دریا میں ڈال۔

دوکاندار
میں آپ سے پچھلے تین دن سے کہہ رہا ہوں کہ ہم سکھوں کو چیزیں نہیں بیچتے اور تم روزانہ حلیہ بدل کر خریداری کے لئے چلے آتے ہو۔

سردار جی
چلو میں آئندہ نہیں آؤں گا، مگر آپ یہ تو بتائیں کہ آپ کو یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ میں سکھ ہوں؟

دوکاندار:
جسے تم روزانہ الماری سمجھ کر خریدنے کی کوشش کرتے ہو وہ اصل میں فریج ہے۔

  

 

 

1 Comment »

  1. 1
    zain Says:

    ASLAM ALEKUM, MOHTARAM ATEEQ BHAI!!!

    WAH WAH WAH, CHA GAY HO ITNI ACHA BLOG BANAYA HAI AAP NAY.. DAD DENI CHAHIYE AAP KI..

    LATIFAY BOHAT ACHAY POST KIYA HAIN..


RSS Feed for this entry

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.